اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سحر عالم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق جمعے کے دن شام کے شمال مشرقی صوبے حسکہ میں نئے شمسی سال کی مناسبت سےکردوں نے نوروز کی مناسبت سے جشن کا اہتمام کیا تھا، جس میں دہشت گردوں نے بم دھماکہ کردیا۔ اس حملے پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے ایسی حالت میں انجام پائے ہیں کہ جب کرد عوام نوروز کی چھٹیاں منارہے ہیں اور اپنا روایتی جشن منانے کے لئے اکٹھا ہو ئے ہیں ۔
واضح رہے کہ شام کے صوبے حسکہ میں دو بم دھماکوں میں عورتوں اور بچوں سمیت سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ پہلا بم دھماکہ صوبہ حسکہ کے مرکز حسکہ شہر میں ہوا جس میں تینتیس سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ دوسرا دھماکہ نئے سال کی تقریب کے موقع پر ہوا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن شام کے انسانی حقوق کے مبصرین کے نام سے موسوم گروپ نے کہا ہے کہ خود کش حملہ آور، تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کا رکن تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اس پیغام میں کہا ہے کہ داعش کا مقصد، شام کے مختلف معاشروں میں قومی اور فرقہ وارانہ فسادات پھیلانا ہے لیکن اس گروہ کو اس کے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے۔ واضح رہے کہ داعش تکفیری گروہ نے صوبہ حسکہ کے بعض علاقوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ لیکن شہر حسکہ کا کنٹرول شامی کردوں کے اختیار میں ہے۔ شام کے کردباشندے مہینوں سے داعش کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔ ان لڑائیوں میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲